ابنا: بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو نے کہا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ساتھ کئے گئے معاہدوں عملی جامہ پہنا کر مثبت تعاون فراہم کیا ہے ۔
ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ نومبر 2013 میں ہونے والے معاہدے کی روشنی میں ایران نے تمام چھ اقدامات کو عملی جامہ پہنا دیا ہے اور 15 مئی 2014 تک دیگر سات اقدامات پر عمل درآمد کے لئے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی اور ایران کے درمیان مثبت تعاون جاری ہے اور ایران نے فردو ایٹمی پلانٹ اور نطنز ایٹمی پلانٹ کے بارے میں بھی درست اطلاعات فراہم کردی ہیں اس کے ساتھ ہی ایران نے 5 فیصد سے اوپر کی مقدار میں یورینیم کی افزودگی معاہدے کے مطابق متوقف کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کا ایٹمی پروگرام بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے زیر نظر جاری ہے اس کے باوجود امریکہ اور بعض دیگر مغربی ممالک ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ قراردے رہے ہیں جبکہ خود پیشرفتہ ایٹم بم تیار کررہے ہیں۔
.......
/169